Share This Article
لاہور: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے قریبی ساتھی انس رضوی کا سراغ لگا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کو جلد حراست میں لیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعد رضوی اور انس رضوی کے زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اگر وہ زخمی ہیں تو انہیں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے ہو جانا چاہیے تاکہ طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
⚠️ مریدکے میں پرتشدد احتجاج — پولیس افسر شہید، درجنوں اہلکار زخمی
پولیس ذرائع کے مطابق 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی رات مریدکے میں ٹی ایل پی کے کارکنان کے پرتشدد احتجاج کے دوران ایک پولیس افسر شہید اور 48 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں 17 اہلکار گولیوں کے زخموں سے متاثر ہیں۔
انتظامیہ نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی، تاہم قیادت کی جانب سے ہجوم کو مسلسل اکسانے کے باعث حالات بگڑ گئے۔ مظاہرین نے پتھراؤ، پیٹرول بموں اور کیلوں والے ڈنڈوں سے پولیس پر حملے کیے اور اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ بھی کی۔
ابتدائی فرانزک رپورٹ کے مطابق، شہید اہلکار پر فائرنگ چھینے گئے سرکاری اسلحے سے کی گئی۔ پولیس نے بڑے سانحے سے بچنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، تاہم مظاہرین مزید مشتعل ہو گئے اور مختلف مقامات پر منظم حملے کیے۔
🔥 گاڑیاں جل گئیں، عوام بھی زد میں آگئے
پولیس ذرائع کے مطابق ہنگاموں کے دوران 40 سے زائد سرکاری و نجی گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں، جب کہ متعدد دکانیں بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔ واقعے میں 3 ٹی ایل پی کارکن اور ایک راہ گیر جاں بحق ہوئے، جب کہ 30 شہری زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے یونیورسٹی بس سمیت کئی گاڑیاں اغوا کیں، جنہیں بعض مقامات پر عوام کو کچلنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے مختلف سمتوں سے اندھا دھند فائرنگ کی، تاہم پولیس نے کئی شرپسند عناصر کو گرفتار کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
⚖️ ریاستی ردِعمل: “تشدد کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا”
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک منظم تشدد کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی، جس میں قیادت نے ہجوم کو بھڑکانے کا کردار ادا کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
پولیس ترجمان نے مزید کہا کہ راہ گیر کی ہلاکت افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے، ریاست کا فرض ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔
