پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر درخواست خارج کر دی۔
دو رکنی بینچ — جسٹس ارشد علی اور جسٹس وقار احمد — پر مشتمل عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا۔
عدالت نے جے یو آئی (ف) کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نومنتخب وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوا اور گورنر نے حلف برداری کے عمل میں بدنیتی دکھائی۔
پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد صوبے میں نومنتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے عہدے کا معاملہ واضح ہو گیا ہے اور اب ان کی حلف برداری کے عمل میں کوئی آئینی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
