کراچی: برصغیر کے عظیم مصلح، مفکر اور تعلیمی رہنما سر سید احمد خان کے یومِ پیدائش پر سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کی نظامت معروف شاعرہ امبرین حسیب امبر نے انجام دی، جنہوں نے اپنے مخصوص ادبی انداز میں سرسید کی علمی خدمات پر مقالہ بھی پیش کیا۔
مقررین میں پروفیسر سحر انصاری، محترمہ ارم اکبر علی خان، نگار سجاد ظہیر، طارق سبزواری اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے سرسید احمد خان کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور فکری میراث پر روشنی ڈالی۔
سرسید یونیورسٹی کے چانسلر اور علیگڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اکبر علی خان نے اپنے خطاب میں کہا:
“سر سید احمد خان کی فکر و تعلیمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اُنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو تعلیم کے ذریعے بیداری کی راہ دکھائی۔ ہمیں آج بھی اُن کے وژن کو اپنانے کی ضرورت ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سرسید یونیورسٹی تعلیم اور صنعت کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہے، تاکہ نوجوانوں کو وہ عملی مہارتیں دی جا سکیں جو آج کی دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
ذاکر علی خان فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ارم اکبر علی نے کہا:
“سر سید احمد خان اپنے دور سے بہت آگے کے رہنما تھے۔ اُنہوں نے قوم کو جدید تعلیم، سائنسی سوچ اور خود اعتمادی کا پیغام دیا۔ آج ہم اُن کے نظریات کو زندہ رکھنے کے عزم کی تجدید کر رہے ہیں۔”
تقریب کے اختتام پر ترانۂ علیگڑھ پیش کیا گیا، جس پر شرکاء نے کھڑے ہو کر سر سید احمد خان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
