کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے سندھ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ( س ای ڈ) کے نفاذ کے بعد کراچی پورٹ پر پیٹرولیم مصنوعات کی کلیئرنس میں تاخیر کے سبب ملک بھر میں پیٹرول کی ممکنہ قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) نے وزیراعلیٰ سندھ کو ہنگامی خط لکھ کر آگاہ کیا کہ بندرگاہوں پر کھڑے کارگو ٹینکرز اور ڈسچارج ہونے والے جہاز کسٹمز کلیئرنس کے منتظر ہیں۔ خاص طور پر پی ایس او کے ٹینکرز ایم ٹی اسلام 2 اور ایم ٹی حنیفہ فوری کلیئرنس کے منتظر ہیں کیونکہ کیماڑی میں آئل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
او سی اے سی نے خبردار کیا کہ اگر وافی انرجی اور پارکو کے کروڈ کارگو کی کلیئرنس نہ ہوئی تو سپلائی چین رک سکتی ہے، جس سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی متاثر ہوگی۔ ادارے نے کہا کہ 1.8 فیصد سیس کے نفاذ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں تقریباً 3 روپے فی لیٹر اضافہ ممکن ہے، جو بالآخر عوام پر بوجھ ڈالے گا۔
مزید کہا گیا کہ زرعی سیزن کے دوران سپلائی چین میں رکاوٹ شدید مالی اور آپریشنل خطرات پیدا کرسکتی ہے، اور اگر مسئلہ پیدا ہوا تو پیٹرول کی بحالی میں کم از کم دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ OCAC نے حکومت سے فوری نوٹس لینے کی درخواست کی ہے تاکہ بحران سے بچا جا سکے۔
