لاہور — وزیر اطلاعات برائے پنجاب عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا ہے کہ رضوی برادران کے خلاف کارروائی کا مقصد عوامی سلامتی اور انسانی جانوں کا تحفظ ہے اور دونوں بھائی جلد گرفتار کیے جائیں گے۔
پریس کانفرنس میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مذہبی جلوس کے دوران پولیس اہلکاروں پر مظاہروں میں حملے ہوئے، گاڑیاں اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور آگ بھی لگائی گئی۔ ان کے بقول اس دوران فائر آرمز، ڈنڈے، غلیل اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور پولیس اہلکار اسی قسم کے ہتھیاروں سے زخمی ہوئے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے خلاف وفاقی سطح پر جلد فیصلہ متوقع ہے اور اس جماعت کے مستقبل کا تعین وفاقی حکومت کرے گی۔ وہ کہتی ہیں کہ گرفتاری کا مقصد ریاست سے ٹکرانے والوں کو روکنا ہے اور حکومت اپنے فیصلوں میں ثابت قدم رہے گی۔
عظمیٰ بخاری نے خبردار کیا کہ مارکیٹیں بند کرانے اور ٹرانسپورٹ روکے جانے جیسے اقدامات دہشتگردی کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے انتہاپسند گروہوں کی تشہیری سرگرمیوں پر بھی پابندیوں کا ذکر کیا مگر واضح کیا کہ مساجد کو بند نہیں کیا گیا۔
مزید برآں، صوبائی حکومت نے اسلحہ بیچنے والی دکانوں کی جانچ تیز کر دی ہے اور غیر قانونی یا ناقص لائسنس رکھنے والے تاجروں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کے عزم پر کام جاری ہے، متعدد ڈیلرز کے لائسنس کی تصدیق کا عمل چل رہا ہے اور کچھ دکانیں سیل بھی کی جا چکی ہیں
