ارجنٹینا کے جنوبی علاقے پیٹاگونیا میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک ایسا ڈائنوسار انڈا دریافت کیا ہے جو تقریباً 70 ملین سال پرانا بتایا جا رہا ہے۔
یہ انڈا شمالی پیٹاگونیا کے ریو نیگرو ریجن میں کھدائی کے دوران ملا اور اپنی محفوظ حالت کے باعث ماہرین کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق، اس انڈے کا سائز اور ساخت جدید شتر مرغ کے انڈے سے مشابہ ہے، تاہم یہ زمانہ کریٹاسیئس دور کا ہے جب ڈائنوسار زمین پر غالب تھے۔
ابتدائی تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ انڈا غالباً بوناپارٹینائیکس (Bonapartenykus) نامی چھوٹے مگر گوشت خور ڈائنوسار کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت جنوبی امریکا میں اب تک ملنے والے سب سے بہتر حالت میں محفوظ انڈوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
ارجنٹینا میوزیم آف نیچرل سائنسز کے ماہر گونزالو میوز کے مطابق،
“ڈائنوسار کے انڈوں کا سالم حالت میں محفوظ رہ جانا نہایت کم ہوتا ہے، خاص طور پر شکاری اقسام کے انڈے بہت نازک ہوتے ہیں۔ اس دریافت نے ہمارے لیے اس دور کے حیاتیاتی ماحولیاتی نظام کو سمجھنے کی نئی راہیں کھولی ہیں۔”
تحقیقی ٹیم اب جدید اسکیننگ اور مائیکرو تجزیاتی طریقوں سے انڈے کے خول اور اندرونی حصے کا مطالعہ کر رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا اس میں کسی جنین یا نامیاتی ذرات کے آثار موجود ہیں۔