اسلام آباد میں ڈکی بھائی سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار این سی سی آئی اے کے چھ افسران سے 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے کی برآمدگی سامنے آگئی ہے، جب کہ ملزمان کے آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات بھی شروع ہو گئی ہیں۔ تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ایف آئی اے نے تمام ملزمان کو لاہور ضلع کچہری پیش کیا، جہاں انہیں ہتھکڑیوں میں لایا گیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے سماعت کی۔ عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق ملزم علی رضا سے 70 لاکھ، زوار سے 9 لاکھ، یاسر گجر سے 19 لاکھ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض سے 36 لاکھ 48 ہزار اور ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سے ایک کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے ریکور کیے گئے۔ شعیب ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈکی بھائی کے 3 لاکھ 420 ڈالر اپنے بائنانس اکاؤنٹ میں منتقل کیے مگر لین دین کا ثبوت پیش نہ کر سکے۔ عدالت میں وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کو سوشل میڈیا پر غیر ضروری ہائیپ دی گئی ہے جس سے فئیر ٹرائل متاثر ہوتا ہے، جبکہ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان تربیت یافتہ افسران ہیں اور ان کی تفتیش پیچیدہ ہے کیونکہ زیرِ تفتیش کیسز، اثاثہ جات اور مالی ریکارڈ کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔ عدالت نے وکلا اور تفتیشی افسر کے دلائل سن کر فیصلہ محفوظ کر لیا۔