ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار نے اس تصدیق کے ساتھ کہا ہے کہ ادارہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ایسے واقعات کی جامع تفتیش کر رہا ہے جن میں بیرونِ ملک جانے والے متعدد مسافر، خصوصاً غیرملکی ملازمت کرنے والے افرادی قوت کے نمائندے، درست سفری دستاویزات کے باوجود اَفلود (offloaded) کیے گئے؛ اس معاملے کا ذکر انہوں نے وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیان چودھری سلیک حسین کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا جہاں مسافروں کو درپیش مشکلات پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ایف آئی اے کی سربراہ نے بتایا کہ واقعے کی اسٹیج وار جَاںچ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اَفلودنگ کے پیچھے ٹیکنیکل خامیاں، ائیر لائن یا ایئرپورٹ پروسیجرز، امیگریشن ریکارڈز یا دیگر انتظامی امور کا کوئی حصہ تو نہیں — اور جب تک حقائق واضح نہیں ہوتے ادارہ اپنے قانونی دائرہ کار میں رہ کر شواہد اکٹھے کر رہا ہے۔ ملاقات میں دونوں فریقین نے شہریوں خصوصاً اوورسیز ورکرز کے لیے سفری آسانیاں، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور فی الفور متاثرہ مسافروں کے لیے شکایتی میکانزم، رابطہ کاری اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی بڑھانے پر زور دیا گیا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک روزگار یا بہتر مواقع کے حصول کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے سفر کو سہل، شفاف اور محفوظ بنانا اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور ایف آئی اے تفتیش مکمل ہونے کے بعد جو بھی اصلاحی سفارشات ہوں گی ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
Hide comments
