Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

سائنسدانوں کی بڑی دریافت: 2 ارب سال پرانے شہابِ ثاقب میں ڈی این اے کے تمام بنیادی اجزا مل گئے

سائنسدانوں کی بڑی دریافت: 2 ارب سال پرانے شہابِ ثاقب میں ڈی این اے کے تمام بنیادی اجزا مل گئے

سائنس کی دنیا میں دہائیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ آیا زمین پر زندگی کے بنیادی اجزا خلا سے آئے تھے یا یہاں خود وجود میں آئے۔ اب نئی تحقیق نے اس بحث کو نئی سمت دے دی ہے—سائنسدانوں نے 2 ارب سال پرانے شہابِ ثاقب (meteorites) میں ڈی این اے اور آر این اے کے تمام پانچ بنیادی کیمیکل بیسز دریافت کرلیے ہیں:
ایڈینائن، گوانین، سائٹوسین، تھائمین اور یوریسل۔

یہ کیمیائی اجزا وہی ہیں جن سے زمین پر ڈی این اے اور آر این اے بنتے ہیں اور زندگی کی ہر شکل انہی کی بنیاد پر قائم ہے۔

محققین کے مطابق یہ دریافت اس بات کی مضبوط شہادت ہے کہ زندگی کے بنیادی تعمیراتی اجزا خلا میں ہی وجود میں آسکتے ہیں، اور ممکن ہے کہ کروڑوں سال پہلے شہابِ ثاقب اور سیارچوں (asteroids) کے زمین سے ٹکرانے کے دوران یہی اجزا زمین پر پہنچے ہوں۔

یہ تحقیق پین سپرمیا (Panspermia) کے نظریے کو تقویت دیتی ہے، جس کے مطابق زندگی کی ابتدا زمین پر نہیں بلکہ خلا میں ہو سکتی ہے اور مختلف ستاروں اور سیاروں سے پھیل کر دوسرے نظاموں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دریافت کا مطلب انسانی ڈی این اے کا خلا میں مل جانا نہیں ہے—بلک

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates