پاکستان نے سرکاری افسران کے لیے ایک نیا اور انتہائی محفوظ موبائل فون تیار کر لیا ہے، جو نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NTC) کے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت مکمل طور پر ملک کے اندر بنایا گیا ہے۔
یہ فون مکمل طور پر مقامی انجینیئرز نے تیار کیا ہے، جس میں ہارڈویئر اور سافٹ ویئر دونوں پاکستان میں ڈویلپ کیے گئے ہیں۔
فون میں ایک خصوصی آپریٹنگ سسٹم استعمال کیا گیا ہے جو عام اسمارٹ فونز سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ سے بالکل بھی نہیں جڑتا۔
چونکہ یہ مسلسل آف لائن رہتا ہے، اس لیے اس کو ہیک کرنا یا کسی بھی سائبر حملے کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حساس نوعیت کی بات چیت کرنے والے سرکاری افسران کے لیے یہ ایک انتہائی محفوظ آپشن سمجھا جا رہا ہے۔
فون میں مقامی سم کارڈز استعمال کیے جا سکتے ہیں، مگر یہ عام موبائل کی طرح کام نہیں کرتا۔ یہ صرف انہی محفوظ فونز سے کال کر سکتا ہے یا وصول کرسکتا ہے، جو اسی نظام کا حصہ ہوں۔
یہ بند اور محفوظ کمیونیکیشن سسٹم یقینی بناتا ہے کہ تمام کالز محفوظ رہیں اور انہیں درمیان سے روکا یا سُنا نہ جا سکے۔ اس کا مقصد حساس امور پر کام کرنے والے سرکاری اداروں کے لیے ایک محفوظ اور بااعتماد رابطے کا نظام فراہم کرنا ہے۔
NTC حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی بڑی کوشش کا حصہ ہے۔ پورا فون پاکستان میں تیار کرنے کا مقصد اہم ملکی ڈیٹا کا تحفظ اور قومی سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنانا ہے۔
اس منصوبے سے ملک میں بڑھتی ہوئی تکنیکی مہارتوں کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اگر پائلٹ فیز کامیاب ہوا تو مزید محفوظ فونز تیار کیے جائیں گے اور اضافی سیکیورٹی فیچرز بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
فی الحال یہ فون منتخب سرکاری افسران کے پاس تجرباتی طور پر موجود ہے، اور ابتدائی ردعمل کے مطابق یہ پاکستان میں محفوظ سرکاری رابطوں کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
