وفاقی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کے 75 فیصد شیئرز نجی شعبے کو فروخت کیے جائیں گے، لیکن شرط یہ ہوگی کہ ایئرلائن کا نام اور تھیم فروخت کے بعد بھی تبدیل نہیں کیے جائیں گے۔
یہ اہم فیصلہ اسلام آباد میں جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بریفنگ کے دوران سامنے آیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پی آئی اے کی نجکاری کے تمام مراحل شفاف اور تیزی سے مکمل کیے جائیں، جبکہ حکام کو یہ بھی کہا گیا کہ فضائی بیڑے میں قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد بڑھانے اور پروازوں کی وقتِ مقررہ پر روانگی یقینی بنانے کے لیے ایک جامع پلان تیار کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ چار کمپنیاں بولی کے لیے پہلے ہی پری کوالیفائی کر چکی ہیں اور بڈنگ جلد منعقد کی جائے گی۔
نجکاری سے منسلک بزنس پلان کے مطابق پی آئی اے کا بیڑا، جو اس وقت 18 قابلِ پرواز طیاروں پر مشتمل ہے، 2029 تک بڑھا کر 38 کیا جائے گا۔
پی آئی اے جو اس وقت 30 سے زائد شہروں میں آپریشن کر رہی ہے، وہ 2029 تک 40 سے زائد شہروں تک اپنی پروازیں بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اہم ارکان، جن میں وزراء دفاع، قانون، اقتصادی امور، اور خزانہ شامل تھے، کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
