پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے میں جاری ٹریفک کریک ڈاؤن کے دوران طلبہ کو سخت کارروائی سے بچانے کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹریفک پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اسکول اور کالج کے طلبہ کو گرفتار نہ کیا جائے کیونکہ کم عمر بچوں کے ساتھ ایسا سلوک ناقابلِ قبول ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید تاکید کی کہ کم عمر موٹر سائیکل سواروں کو نہ تو ہتھکڑی لگائی جائے اور نہ ہی ہراساں کیا جائے، کیونکہ اس مہم کا مقصد بچوں کو مجرم بنانا نہیں ہے۔
پیر کے روز پنجاب کی مختلف عدالتوں میں کم عمر ڈرائیوروں کی پیشی کے مناظر دیکھنے میں آئے، جس کے بعد والدین اور وکلاء ان کی رہائی کے لیے پہنچ گئے۔ اس صورتِ حال نے ٹریفک کریک ڈاؤن پر شدید تنقید کو جنم دیا۔
خاندانوں کا مؤقف تھا کہ ایسے اقدامات سے طلبہ کے ریکارڈ متاثر ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں ملازمت کے مواقع بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ وکلاء نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نابالغوں کو مجرم بنانے کے بجائے اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ کے حکم کے بعد ایڈیشنل آئی جی ٹریفک وقاص نذیر نے فوراً ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی گرفتاریاں مکمل طور پر بند کر دی جائیں اور اس کے بجائے ایسے والدین کے خلاف کارروائی کی جائے جو کم عمر بچوں کو گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دیتے ہیں۔
دوسری جانب، سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے اپنے عملے کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہے۔ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 149 سرکاری گاڑیاں بقایاجات والے ای چالان کی وجہ سے بند کر دی گئیں، جو اسی وقت واپس کی گئیں جب متعلقہ اہلکاروں نے اپنے جرمانے ادا کیے۔
