Share This Article
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے دفتر کے مطابق صوبائی حکومت نے اصولی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کو موٹر سائیکل لائسنس اور اسمارٹ کارڈ جاری کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صوبے میں ٹریفک قوانین کے خلاف کریک ڈاؤن پر عوامی ردِعمل شدت اختیار کر گیا۔ صرف 72 گھنٹوں میں 4,600 سے زائد مقدمات اور تقریباً 3,100 گرفتاریاں ہوئیں، جن میں بڑی تعداد اسکول کے بچوں کی تھی۔
والدین نے اس کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، مؤقف اختیار کیا کہ نابالغ بچوں پر مقدمات اور گرفتاریاں ان کے مستقبل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق گرفتاریوں کا طریقہ کار غیر ضروری اور حد سے زیادہ سخت تھا۔
وزیرِ اعلیٰ کے دفتر نے تصدیق کی کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹریفک خلاف ورزیوں پر کم سن بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے کے واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب 16 سالہ نوجوانوں کے لیے لائسنسوں کا باقاعدہ اجرا شروع کیا جائے گا جبکہ ٹریفک پولیس تعلیمی اداروں اور نوجوان موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی آگاہی ہفتہ بھی منائے گی۔
نظرِ ثانی شدہ پالیسی کے مطابق پہلی بار ہیلمٹ نہ پہننے والوں کو جرمانے کے بجائے تنبیہ کی جائے گی۔ ٹریفک پولیس پہلی بار ڈرونز اور باڈی کیمراز کا استعمال بھی کرے گی تاکہ خلاف ورزیوں کی مؤثر نگرانی اور شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو ٹریفک قوانین اور سڑک کی حفاظت کے بارے میں بہتر تربیت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد بچوں کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ انہیں قانون کی پابندی سکھانا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اصل مسئلہ رہنمائی کے فقدان کا ہے، کیونکہ کئی بچوں کو ہیلمٹ پہننے کی اہمیت کبھی سکھائی ہی نہیں گئی۔
