Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

محکمہ موسمیات نے دسمبر اور جنوری کے لیے بارشوں کی پیشگوئی جاری کر دی

محکمہ موسمیات نے دسمبر اور جنوری کے لیے بارشوں کی پیشگوئی جاری کر دی

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے نئی موسمی پیشگوئی جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دسمبر اور جنوری کے آغاز میں ملک کے کئی حصّوں میں بارشیں معمول سے کم رہیں گی۔ اس طویل خشک موسم کے باعث زرعی پیداوار، مٹی میں نمی، اور پانی کی مجموعی دستیابی پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

خشک موسم زرعی فصلوں کے لیے خطرہ

ماہرین کے مطابق بارشوں میں کمی سے زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے، خصوصاً وہ علاقے جو نہری نظام کے بجائے بارشوں پر انحصار کرتے ہیں۔
رابی کی اہم فصلیں—جیسے:

گندم

سرسوں

جو (Barley)

—کم نمی کے سبب متاثر ہونے کا اندیشہ رکھتی ہیں۔ مٹی میں نمی کی کمی سے انکرت (germination) کمزور ہونے، فصل کی بڑھوتری رکنے اور فی ایکڑ پیداوار میں کمی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

درجہ حرارت بھی معمول سے زیادہ رہے گا

محکمہ موسمیات نے یہ بھی بتایا کہ دسمبر اور جنوری میں درجہ حرارت معمول سے کچھ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
گرم اور خشک موسم:

کیڑوں کے حملے میں اضافہ

فصلوں پر ابتدائی بیماریوں کے خدشات

فصلوں کے بڑھنے کی مدت میں بے وقت تبدیلی

—جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

پانی کے ذخائر اور گھریلو پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان

کم بارشوں کے باعث:

آبی ذخائر کی ری چارجنگ سست ہو سکتی ہے

زیرِ زمین پانی کم رفتار سے بھرجائے گا

کنویں اور ٹیوب ویل دباؤ محسوس کر سکتے ہیں

گھریلو پانی کی فراہمی، مویشیوں کی ضروریات اور آبپاشی کا نظام متاثر ہو سکتا ہے

ملک کے وہ علاقے جو پہلے ہی پانی کی کمی کے بحران کا شکار ہیں، وہاں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

زیادہ متاثر ہونے والے علاقے

محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان وہ خطے ہیں جہاں نمی کی کمی اور بارشوں میں کمی سے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہوں گے۔
یہ علاقے سردیوں کی بارشوں اور برفباری پر انحصار کرتے ہیں، جس کے ذریعے نہ صرف فصلوں کو نمی ملتی ہے بلکہ:

چشمے

ندی نالے

زیرِ زمین پانی

اور ڈیموں کا پانی

—قدرتی طور پر ری چارج ہوتا ہے۔

بارشوں میں کمی سے ان علاقوں میں پانی کی فوری قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates