پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں صفائی کے بڑھتے ہوئے اقدامات کے تحت عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے والے افراد اور کاروباری اداروں پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں ستھرا پنجاب منصوبے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں حکام نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صفائی پروگرام پر عوامی ردعمل انتہائی مثبت ہے۔ نظام کی بہتری کے لیے ویہیکل ٹریکنگ سسٹم اور لائیو کنٹینر مانیٹرنگ بھی فعال کر دی گئی ہے، جس سے نگرانی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے منصوبے کی وسعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب نے صفائی کے نظام کو بالکل نئے سرے سے شروع کیا اور وقت کے ساتھ اسے مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ شہروں اور دیہات کے لیے جامع ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کئی سال پہلے قائم ہونا چاہیے تھا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تجارتی علاقوں سمیت سڑکوں پر کچرا پھینکتے ہوئے پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ پنجاب میں استعمال ہونے والی صفائی کی گاڑیوں کو مرحلہ وار ماحول دوست الیکٹرک وہیکلز میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ ویسٹ ٹو انرجی منصوبے کے تحت کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کے اقدامات بھی شروع کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ویسٹ ٹو ویلیو منصوبے کا تفصیلی خاکہ جنوری کے وسط تک پیش کیا جائے۔
