سندھ حکومت نے ایمرجنسی ریسکیو نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 110 نئی ہائی وے ایمبولینسز، کینجھر جھیل پر خصوصی میرین ریسکیو یونٹ، اور بائیک ریسکیو سروس کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ سندھ حکومت اور سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS) کے باہمی تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
SIEHS کے سی ای او بریگیڈیئر (ر) طارق لغاری نے بتایا کہ نئی ایمبولینسز خصوصاً دور دراز علاقوں میں فوری امدادی صلاحیت کو بہتر بنائیں گی۔
ان کے مطابق، 110 ایمبولینسز میں سے 8 ایمبولینسز ٹھٹھہ سے مٹھی روٹ پر تعینات کی جائیں گی، جہاں حادثات کی شرح زیادہ اور رسپانس ٹائم ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
کینجھر جھیل پر جدید میرین ریسکیو یونٹ
کینجھر جھیل میں قائم کیے گئے میرین ریسکیو یونٹ میں جدید لائف سیونگ سامان اور 10 تربیت یافتہ غوطہ خوروں کی ٹیم شامل ہے۔ حکام کے مطابق، میرین ریسکیو سروس کو آئندہ مرحلے میں سندھ کی پوری ساحلی پٹی تک توسیع دی جائے گی، جن میں کراچی، کیٹی بندر، شاہ بندر اور بدین شامل ہیں۔
بائیک ریسکیو سروس کا آغاز
گنجان شہری علاقوں اور تنگ دیہی راستوں تک تیزی سے رسائی کے لیے بائیک ریسکیو سروس بھی متعارف کرائی گئی ہے، جو منٹوں میں ایمرجنسی پوائنٹس تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اہم شخصیات کی شرکت
صوبائی وزیر ریاض شاہ شیرازی نے اس پروگرام کو صوبے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خدمات جھیلوں، دریائی نہروں اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے عملی اور فوری امدادی حل فراہم کریں گی۔
افتتاحی تقریب میں شامل اہم شخصیات میں بریگیڈیئر (ر) طارق لغاری، صوبائی وزیر ریاض شاہ شیرازی، ایم پی اے قاسم سومرو، ڈائریکٹر آپریشنز لطیف منگریو، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ منور عباس سومرو اور 1122 ٹھٹھہ کے انچارج وزیر علی زؤر شامل تھے۔
