بینائی کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے پروٹینز کو دوبارہ پروگرام کرکے ریٹینا کی بحالی ممکن بنا دی ہے، جس کے بعد بینائی سے محروم ٹیسٹ سبجیکٹس کی نظر حیرت انگیز طور پر واپس آگئی۔
اس طریقۂ علاج میں کسی قسم کی مشینی یا مصنوعی امپلانٹس کا استعمال نہیں ہوتا۔ سائنسدانوں نے خاص ترقیاتی پروٹینز کو دوبارہ متحرک کیا، جن کے ذریعے خراب شدہ ریٹینا سیلز کو دوبارہ “نوجوان، مرمت کے لیے تیار” حالت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ یوں آنکھ کے ٹشوز اندر سے خود کو دوبارہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تکنیک عمر سے متعلق بینائی کے مسائل، ریٹینا کو پہنچنے والی چوٹ، اور کئی دیگر انحطاطی امراض کے علاج کے لیے نئی امید بن سکتی ہے۔
سائنس کی یہ پیش رفت مستقبل کی ایک ایسی جھلک پیش کرتی ہے جہاں اندھاپن مستقل نہیں رہے گا — بلکہ قابلِ واپسی ہوگا۔
