Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ڈکی بھائی کی پہلی ویڈیو میں تہلکہ خیز انکشافات، عوام نے انصاف کا مطالبہ کر دیا

ڈکی بھائی کی پہلی ویڈیو میں تہلکہ خیز انکشافات، عوام نے انصاف کا مطالبہ کر دیا

پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی کی جانب سے الزامات نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد جاری کی گئی اپنی پہلی طویل ویڈیو میں انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے افسران پر جسمانی، ذہنی اور مالی استحصال کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

ڈکی بھائی کو 16 اگست کو لاہور ایئرپورٹ سے غیر قانونی جوا ایپس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 24 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کیا۔ نئی ویڈیو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ دورانِ حراست افسران، خصوصاً ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری نے انہیں گالیاں دیں، تھپڑ مارے، ذہنی اذیت دی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی سمیت بزرگ والدہ کو بھی ہراساں کیا۔

عوام کا سخت ردعمل — “کسی عام شہری کے ساتھ تو کیا ہوتا ہوگا؟”

ڈکی بھائی کے الزامات سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ہزاروں صارفین نے NCCIA افسران کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ:
“اگر ایک مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟”

سوشل میڈیا پر ٹرینڈز میں عوام کا یہی مطالبہ سامنے آیا کہ ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں اور مثال قائم کی جائے۔

رشوت، ہراسانی اور کرپٹو کی مبینہ ٹرانسفر

ڈکی بھائی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افسران نے رشوت طلب کی اور ان کے کرپٹو اکاؤنٹس سے بھاری رقم ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔
ان الزامات کے بعد دونوں افسران کو اکتوبر میں عروب جتوئی کی جانب سے درج مقدمے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

عروب جتوئی کی ثابت قدمی کو عوام کا سلام

کئی صارفین نے ڈکی کی اہلیہ کی حوصلہ افزائی کی اور لکھا کہ وہ اس مشکل وقت میں جس مضبوطی سے کھڑی رہیں، وہ قابلِ تعریف ہے۔

طاقت کے غلط استعمال پر نئی بحث چھڑ گئی

ڈکی بھائی کی ویڈیو نے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات، احتساب اور شہری حقوق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر مشہور شخصیات محفوظ نہیں تو عام شہری کس حال میں ہوں گے۔

دوسری جانب، جوا ایپ کیس اور افسران کے خلاف بدسلوکی کے الزامات پر تحقیقات جاری ہیں جبکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ مکمل شفافیت کے ساتھ انصاف فراہم کیا جائے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates