Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سخت پیغام — ’’طالبان رجیم کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ انہیں فتنۃ الخوارج یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا‘‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سخت پیغام — ’’طالبان رجیم کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ انہیں فتنۃ الخوارج یا پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا‘‘

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغانستان کی طالبان حکومت کو نہایت دو ٹوک اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ طالبان رجیم کو فتنۃ الخوارج (دہشت گرد گروہوں) یا پھر پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے، سرحدی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے ہر آئینی اور حفاظتی اختیار کا استعمال کرے گا، اور کسی بھی ملک یا گروہ کو پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی فورسز دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف صفِ آراء ہیں اور ’’خوارج‘‘ کہلانے والے گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینا خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، اور اس سلسلے میں طالبان حکومت کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف عملی اقدامات کرے۔

افغان طالبان کے ساتھ سفارتی سطح پر واضح مذاکرات

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے طالبان حکام کو متعدد بار یہ پیغام پہنچایا جا چکا ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنا ضروری ہے، کیونکہ ان کے حملوں سے پاکستان میں سیکڑوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اور کوئی بھی عنصر—چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی—پاکستان کے خلاف برداشت نہیں کیا جائے گا۔

’’فیصلہ طالبان کو کرنا ہے‘‘

اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ طالبان حکومت کو کرنا ہے کہ آیا وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی اصولوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا پھر ان عناصر کی پشت پناہی جاری رکھتی ہے جنہیں پاکستان ’’فتنۃ الخوارج‘‘ قرار دیتا ہے۔

پاکستان کا دوٹوک مؤقف

آخر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن کمزوری دکھانے یا یک طرفہ برداشت کی پالیسی اختیار کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف امن کے لیے اقدامات کرے گا بلکہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates