بظاہر ایک بے ضرر عادت سمجھی جانے والی چیونگ گم کے بارے میں نئی تحقیق نے ایک تشویشناک حقیقت سامنے لا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق چیونگ گم چباتے ہی چند منٹوں کے اندر ہزاروں باریک پلاسٹک ذرات (مائیکرو پلاسٹکس) انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر کمرشل چیونگ گمز میں مصنوعی پولیمرز استعمال کیے جاتے ہیں، جو وہی مواد ہیں جن سے پلاسٹک بیگز اور ٹائر تیار کیے جاتے ہیں۔ جب گم چبائی جاتی ہے تو رگڑ کے باعث اس کا بنیادی ڈھانچہ ٹوٹنے لگتا ہے اور نظر نہ آنے والے مائیکرو پلاسٹک ذرات خارج ہو جاتے ہیں۔
یہ ننھے ذرات یا تو نگل لیے جاتے ہیں یا منہ کی جھلی کے ذریعے جذب ہو کر خون کے بہاؤ میں شامل ہو سکتے ہیں، جہاں یہ وقت کے ساتھ مختلف اعضا میں جمع ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ اس کے طویل المدتی اثرات پر مزید تحقیق جاری ہے، تاہم ابتدائی نتائج میں سوزش، ہارمونز میں بگاڑ اور زہریلے اثرات سے تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جو عادت ہمیں معمولی اور بے ضرر لگتی ہے، وہ درحقیقت جسم کو غیر ضروری اور نقصان دہ ذرات کے سامنے لا سکتی ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ قدرتی اجزا سے بنی چیونگ گمز، جیسے چیکل یا پودوں پر مبنی گمز، زیادہ محفوظ انتخاب ہو سکتی ہیں۔
کبھی کبھار روزمرہ کی سب سے عام چیزیں ہی سب سے غیر متوقع خطرات اپنے اندر چھپائے ہوتی ہیں۔
