پاکستان میں بجلی صارفین کو پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کا بوجھ اٹھانا پڑتا رہے گا، کیونکہ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران 278 ارب روپے ڈیٹ سروسنگ سرچارج کے ذریعے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے بتائی ہے۔
حکام کے مطابق یہ سرچارج گردشی قرضے میں مسلسل اضافے پر قابو پانے اور توانائی کے شعبے میں مالی استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ اضافی رقم براہِ راست بجلی کے بلوں میں شامل کی جائے گی، جس کے باعث پہلے ہی مہنگی بجلی سے پریشان گھریلو صارفین اور کاروباری طبقے پر مزید دباؤ پڑے گا۔
عوامی تشویش اور اصلاحات کا مطالبہ
اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر پاور سیکٹر میں طویل المدتی اصلاحات، کارکردگی میں بہتری اور پائیدار حل کے حوالے سے عوامی اور ماہرین کی سطح پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بار بار سرچارج عائد کرنا مسئلے کا عارضی حل ہے، جبکہ بنیادی اصلاحات کے بغیر گردشی قرضہ مسلسل بڑھتا رہے گا۔
ماہرین توانائی کے مطابق اگر بجلی کی پیداوار، ترسیل اور وصولیوں کے نظام میں مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
