Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

حکومت کا پی آئی اے کا مکمل حصہ فروخت کرنے کا فیصلہ، نجکاری منصوبے میں بڑی تبدیلی

حکومت کا پی آئی اے کا مکمل حصہ فروخت کرنے کا فیصلہ، نجکاری منصوبے میں بڑی تبدیلی

وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے منصوبے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے قومی ائیرلائن میں اپنا مکمل حصہ فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد خسارے میں چلنے والی پی آئی اے کو بحال کرنا اور سنجیدہ سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے نجکاری فریم ورک کے تحت حکومت 23 دسمبر کو پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نیلامی کرے گی، جبکہ کامیاب بولی دہندہ کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ بعد ازاں باقی 25 فیصد حصص بھی خرید سکے۔

باقی حصص کی خریداری میں سہولت

حکام کے مطابق باقی 25 فیصد شیئرز ایک ماہ کے اندر خریدے جا سکیں گے، جن کی قیمت اصل بولی سے 12 فیصد اضافی (پریمیم) ہوگی۔ مزید سہولت کے طور پر خریدار کو اس رقم کی ادائیگی ایک سال بعد کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی، تاکہ سرمایہ کاری میں آسانی پیدا ہو۔

ادائیگی کی شرائط میں نرمی

حکومت نے ادائیگی کی شرائط بھی نرم کر دی ہیں۔ نئی پالیسی کے مطابق بولی کی رقم کا صرف 7.5 فیصد نقد ادا کرنا ہوگا، جبکہ باقی 92.5 فیصد رقم پی آئی اے میں بطور ایکویٹی ڈالی جائے گی۔ اس سے قبل نجکاری منصوبے میں 15 فیصد نقد رقم جمع کرانا لازمی تھا۔

مکمل کنٹرول سرمایہ کار کے پاس

حکام کا کہنا ہے کہ مکمل 100 فیصد فروخت کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب شارٹ لسٹ کیے گئے سرمایہ کاروں نے مطالبہ کیا کہ انہیں مکمل انتظامی کنٹرول دیا جائے اور حکومت لین دین کے بعد کسی بھی قسم کی مداخلت نہ کرے۔ ماضی میں جزوی فروخت کے منصوبے سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کے باعث ناکام ہو چکے تھے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے تصدیق کی کہ سرمایہ کار کم از کم 75 فیصد حصص چاہتے تھے، جبکہ بعض گروپس نے مکمل ملکیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے گرین شو آپشن کی منظوری دی ہے، جس کے تحت خریدار بعد میں باقی حصص بھی حاصل کر سکتا ہے۔

حکومت کا اصل ہدف

حکام کے مطابق حکومت کا بنیادی مقصد نجکاری سے فوری آمدن حاصل کرنا نہیں بلکہ پی آئی اے کی بحالی اور طویل المدتی استحکام ہے۔

اسی مقصد کے تحت حکومت پہلے ہی پی آئی اے کے 654 ارب روپے کے قرضے ایک الگ ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر چکی ہے، جس کا بوجھ اب قومی خزانے یعنی ٹیکس دہندگان برداشت کر رہے ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران پی آئی اے کو 34.7 ارب روپے بجٹ سے قرضوں کی ادائیگی، پنشن اور طبی اخراجات کے لیے دیے جانے کا امکان ہے۔

نئے مالکان پر باقی ذمہ داریاں

تاہم، نئے مالکان کو اب بھی تقریباً 26 ارب روپے کے ٹیکس اور ایئرپورٹ واجبات ادا کرنا ہوں گے، اس کے علاوہ جہازوں کے لیز واجبات جیسے غیر ملکی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

نجکاری کمیشن کے حکام کے مطابق پی آئی اے کی ایکویٹی اب مثبت ہو چکی ہے اور تقریباً 30 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی روٹس کی بحالی اور طیاروں کے لیز پر ٹیکس میں ریلیف سے ائیرلائن کی مالیت میں بھی بہتری آئی ہے۔

بولی میں شامل بڑے گروپس

پی آئی اے کی نجکاری میں کئی بڑے کاروباری گروپس حصہ لے رہے ہیں، جن میں:

لکی سیمنٹ کنسورشیم

عارف حبیب کنسورشیم

فوجی فرٹیلائزر

ایئر بلیو

شامل ہیں۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates