بغداد: عراق کی ہوابازی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور ہو گیا ہے، جہاں 35 سال بعد پہلی مرتبہ کسی یورپی مسافر بردار طیارے نے دارالحکومت بغداد میں لینڈنگ کی ہے۔
عراقی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق یونان کی معروف ایئرلائن ایجیئن ایئرلائنز کی پرواز بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جو یورپ کے کمرشل فضائی نیٹ ورک سے عراق کے دوبارہ جُڑنے کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔
حکام نے اس پیش رفت کو محض ایک معمول کی پرواز نہیں بلکہ اس بات کا واضح اشارہ قرار دیا کہ عراق بتدریج عالمی ہوابازی کے منظرنامے میں اپنی جگہ دوبارہ بنا رہا ہے۔
بغداد میں یورپی پرواز کی آمد ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری پر بڑھتے اعتماد کی عکاس ہے، جبکہ یہ اس شعبے کی بحالی کی کوششوں کو بھی اجاگر کرتی ہے جو 1990 کی دہائی کے اوائل سے شدید مشکلات کا شکار رہا ہے۔
واضح رہے کہ عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد یورپی ایئرلائنز نے بغداد کے لیے براہِ راست پروازیں معطل کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں برسوں تک پابندیاں، تنازعات اور عالمی تنہائی رہی۔
بعد ازاں 2003 میں امریکا کی قیادت میں ہونے والے حملے نے حالات کو مزید خراب کر دیا، جس سے طویل عدم استحکام، اندرونی کشیدگی اور شدت پسند گروہوں کا ابھار سامنے آیا، اور بین الاقوامی ایئرلائنز کئی دہائیوں تک عراق سے دور رہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں عراق میں ماضی کے مقابلے میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا ہے۔ حکومت اقتصادی بحالی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی سفری روابط کی بحالی پر کام کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق بغداد–ایتھنز روٹ پر ابتدائی طور پر ہفتے میں دو پروازیں چلائی جائیں گی، جبکہ مسافروں کی تعداد میں اضافے کی صورت میں مزید پروازیں متعارف کرانے پر بھی غور کیا جائے گا۔
اس سے قبل رواں سال ایجیئن ایئرلائنز نے اربیل کے لیے بھی پروازوں کا آغاز کیا تھا، جسے عراق میں نسبتاً محفوظ داخلی دروازہ تصور کیا جاتا ہے۔
بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یورپی پروازوں کی واپسی عراق کے ہوابازی کے مستقبل اور عالمی اقتصادی نظام میں دوبارہ شمولیت کے حوالے سے محتاط امید کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
