Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

حکومت کی ’بیپ (BEEP)‘ ایپ جلد دوبارہ لانچ کرنے کی تیاری

اسلام آباد: وفاقی حکومت سرکاری افسران کے لیے ’بیپ (BEEP)‘ ایپ کو آئندہ چند ماہ میں دوبارہ لانچ کرنے جا رہی ہے۔ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل رتیال نے منگل کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بیپ ایپ مقامی طور پر تیار کی گئی ہے اور تمام متعلقہ سرکاری اداروں سے تصدیق شدہ ہے۔

واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے اگست 2023 میں بیپ پاکستان کو آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا تھا۔ وہ اب قومی اسمبلی کی آئی ٹی و ٹیلی کام قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ اجلاس کے دوران انہوں نے این آئی ٹی بی کو ایپ کے بروقت اجرا کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

محفوظ سرکاری رابطے کا پلیٹ فارم

این آئی ٹی بی کے سی ای او نے کمیٹی کو بتایا کہ بیپ ایپ لانچ کرنے کا بنیادی مقصد ملک بھر کے سرکاری ملازمین کے لیے ایک محفوظ میسجنگ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ایپ کو مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا، جس کا آغاز وفاقی وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں سے کیا جائے گا۔

فیصل رتیال کے مطابق
“بیپ ایپ کا اجرا آئندہ دو ماہ کے اندر متوقع ہے۔ اس ایپ کو وفاقی ای آفس سسٹم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، تاکہ سرکاری اداروں کے اندر محفوظ پیغام رسانی، دستاویزات کے تبادلے اور ورک فلو میں ہم آہنگی ممکن ہو سکے۔”

جدید سیکیورٹی فیچرز

بیپ ایپ میں اعلیٰ درجے کے سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں، جن میں ٹیکسٹ میسجز اور ویڈیو کالز کے لیے فل انکرپشن شامل ہے۔ کمیٹی نے اس سے قبل ڈیٹا سیکیورٹی اور سرکاری رابطوں کے تحفظ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، خاص طور پر 2024 میں عالمی سطح پر پیش آنے والے تنازعات کے تناظر میں۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ایپ میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ساتھ ویڈیو کمیونیکیشن کی سہولت بھی شامل کر دی گئی ہے، جو حساس سرکاری معاملات کے لیے موزوں ہے۔ نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (NCERT) نے بھی بیپ ایپ کو باضابطہ طور پر سرکاری استعمال کے لیے کلیئر کر دیا ہے۔

اخراجات اور مالی ماڈل

آپریشنل اخراجات سے متعلق سوال پر فیصل رتیال نے بتایا کہ بیپ ایپ یوزیج بیسڈ فیس ماڈل پر کام کرے گی اور مستقبل میں اسے مالی طور پر خود کفیل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیکریٹری آئی ٹی نے واضح کیا کہ اس ایپ کا مقصد آمدن حاصل کرنا نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان محفوظ، مؤثر اور قابلِ اعتماد رابطہ قائم کرنا ہے۔

واٹس ایپ کے مقابل مقامی متبادل

اس وقت واٹس ایپ، جو میٹا کی ملکیت ہے، پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پلیٹ فارم ہے، تاہم اس کے ڈیٹا سرورز ملک سے باہر واقع ہیں۔ اس کے برعکس بیپ ایپ کے ڈیٹا سرورز پاکستان میں موجود ہیں اور اس کے سیکیورٹی فیچرز وی چیٹ جیسے پلیٹ فارمز سے متاثر ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی ای آفس سسٹم کے بعد بیپ ایپ کا انضمام سرکاری اداروں کے اندر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنائے گا، شفافیت میں اضافہ کرے گا اور آپریشنل خطرات کو کم کرنے میں مدد دے گا۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates