اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے چار سینئر افسران کے استعفے منظور کر لیے ہیں، جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سرفراز چوہدری بھی شامل ہیں۔ یہ استعفے 20 نومبر سے مؤثر قرار دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سرفراز چوہدری پر معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی (سعد الرحمٰن) نے دورانِ حراست تشدد اور بھتہ طلب کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ڈکی بھائی کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں حراست کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 70 سے 80 ملین روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت ستانی کے الزامات پر ان افسران کو گرفتار بھی کیا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
حکام کے مطابق استعفوں کی منظوری انتظامی عمل کا حصہ ہے، جبکہ الزامات کی مکمل تحقیقات متعلقہ فورمز پر جاری ہیں۔ این سی سی آئی اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ادارہ قانون کی بالادستی، شفافیت اور احتساب پر یقین رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
