Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

گلگت بلتستان حکومت کا دیوسائی نیشنل پارک میں بڑی تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان

گلگت بلتستان حکومت کا دیوسائی نیشنل پارک میں بڑی تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان

اسکردو: گلگت بلتستان حکومت نے آئندہ سیاحتی سیزن کے لیے دیوسائی نیشنل پارک میں موسمی ہوٹلوں کے قیام اور تمام تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد پارک کے نازک ماحولیاتی نظام کا تحفظ اور ماحولیاتی بگاڑ کو روکنا ہے۔

محکمہ جنگلات، پارکس اور وائلڈ لائف کے مطابق یہ اقدام دیوسائی کے قدرتی حسن، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام نے ہوٹل مالکان اور سیاحت سے وابستہ افراد کو خبردار کیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دیوسائی نیشنل پارک، جو اسکردو اور استور اضلاع کے درمیان 4,114 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، ہر سال گرمیوں میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے دلکش جنگلی پھولوں، نایاب ہمالیائی بھورے ریچھ اور شاندار مناظر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، اور اسے اکثر “دی لینڈ آف جائنٹس” بھی کہا جاتا ہے۔

یہ پابندی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بھی لگائی گئی ہے۔ ستمبر میں پیش آنے والے ایک واقعے میں معروف گلوکارہ قرت العین بلوچ دیوسائی میں کیمپنگ کے دوران ایک نایاب ہمالیائی بھورے ریچھ کے حملے میں زخمی ہو گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد حکام نے سیاحوں کی حفاظت کے لیے پارک میں کیمپنگ پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

حکام کے مطابق دیوسائی نیشنل پارک جون سے نومبر تک سیاحت کے لیے کھلا رہے گا، تاکہ لوگ اس کی قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکیں، تاہم اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ منفرد ماحولیاتی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates