حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ بالوں کا رنگ (ہیئر ڈائی) بار بار استعمال کرنے سے خواتین میں بریسٹ کینسر کے خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیئر ڈائی براہِ راست کینسر کی وجہ ثابت نہیں ہوئی، تاہم تحقیق نے ایک اہم تعلق (association) کی نشاندہی ضرور کی ہے جو طویل المدتی استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
سائنسدان اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ہیئر ڈائی میں شامل کیمیائی اجزا وقت کے ساتھ انسانی جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ بالوں کا رنگ لگاتے وقت یہ کیمیکلز سر کی جلد کے ذریعے جذب ہو سکتے ہیں، جو خون میں شامل ہو کر خلیات کے رویّے پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگرچہ مارکیٹ میں دستیاب کئی مصنوعات حفاظتی معیار پر پوری اترتی ہیں، مگر مسلسل اور طویل استعمال ان مادّوں سے رابطے کو بڑھا دیتا ہے۔ ماہرین اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ کیمیکلز کس طرح ہارمونل نظام اور جینیاتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ذاتی خوبصورتی کے فیصلوں میں باخبر انتخاب بے حد ضروری ہے۔ معمولی احتیاطی اقدامات، جیسے ہیئر ڈائی کا محدود استعمال یا نسبتاً محفوظ اور کم کیمیکل والی مصنوعات کا انتخاب، طویل المدتی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
خوبصورتی کے ساتھ صحت کا خیال رکھنا ہی اصل دانشمندی ہے۔
