راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے ہفتے کے روز توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید اور فی کس ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
فیصلہ خصوصی جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے سنایا، جس میں مختلف قانونی دفعات کے تحت متعدد سزائیں دی گئیں۔ عدالت نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ دیگر الزامات کے ساتھ مجموعی سزا 17 سال بنتی ہے۔
فیصلے کے موقع پر عدالت میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر عمیر مجید اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے افضل خان موجود تھے۔ عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے وکالت کی، جبکہ خصوصی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اپنی ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے۔
توشہ خانہ ٹو کیس کیا ہے؟
استغاثہ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 2021 میں سعودی عرب کے دورے کے دوران ایک گراف جیولری سیٹ بطور سرکاری تحفہ وصول کیا۔ ملزمان کا مؤقف تھا کہ انہوں نے اس تحفے کی 50 فیصد مالیت ادا کی، تاہم تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اصل قیمت 70 ملین روپے سے زائد تھی، جسے جان بوجھ کر 5.8 ملین روپے ظاہر کیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق سابق وزیرِاعظم کے اس وقت کے سیکریٹری انعام اللہ شاہ نے تشخیص کار صہیب عباسی پر دباؤ ڈال کر تحفے کی کم قیمت لگوائی، جس کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
یہ کیس ابتدا میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے تحت درج کیا گیا تھا۔ نیب نے 7 جنوری 2024 کو تحقیقات کی منظوری دی اور 19 اگست 2024 کو ریفرنس دائر کیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کی بحالی کے بعد 9 ستمبر 2024 کو کیس ایف آئی اے کو منتقل کر دیا گیا۔
توشہ خانہ ٹو کیس کی آخری سماعت 16 اکتوبر کو ہوئی تھی، جس کے بعد سماعت تین مرتبہ ملتوی کی گئی اور اب عدالت نے حتمی فیصلہ سنا دیا ہے۔
