Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

پاکستان میں فضائی آلودگی کا بحران شدت اختیار کر گیا، ماہرین الیکٹرک گاڑیوں پر زور دے رہے ہیں

پاکستان میں فضائی آلودگی کا بحران شدت اختیار کر گیا، ماہرین الیکٹرک گاڑیوں پر زور دے رہے ہیں

پاکستان میں فضائی آلودگی کا بحران شدت اختیار کر گیا، ماہرین الیکٹرک گاڑیوں پر زور دے رہے ہیں

پاکستان کو فضائی آلودگی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور یہ دنیا کے تیسرے سب سے زیادہ آلودہ ملک کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں فضا میں موجود باریک ذرات (PM2.5) کی اوسط مقدار عالمی حفاظتی حد سے کہیں زیادہ ہے۔ بڑے شہروں، خصوصاً لاہور میں، سردیوں کے دوران اسموگ کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ جاتی ہے جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔

حالیہ دنوں بی وائی ڈی پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ کلائمیٹ ایکشن ڈائیلاگ میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق، شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہے، جو مجموعی اخراج کا تقریباً 80 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی سے آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ بنے گا بلکہ معاشی فوائد بھی فراہم کرے گا۔ اندازوں کے مطابق، اس شعبے کی ترقی سے پاکستان کی معیشت میں 1.3 کھرب روپے کا اضافہ اور 15 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

مباحثے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صاف اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے لیے حکومتی پالیسی سپورٹ، انفراسٹرکچر کی ترقی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہے، تاکہ پاکستان کو صاف اور صحت مند مستقبل کی جانب لے جایا جا سکے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates