Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ترکی میں طیارہ حادثہ: لیبیا کے آرمی چیف جاں بحق، ابتدائی وجہ سامنے آ گئی

ترکی میں طیارہ حادثہ: لیبیا کے آرمی چیف جاں بحق، ابتدائی وجہ سامنے آ گئی

لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد علی احمد الحدّاد ترکی میں ایک نجی طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ لیبیا کے وزیراعظم نے بدھ کے روز اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی۔

ابتدا میں حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تھی، تاہم بعد ازاں ترکی کے سربراہ برائے کمیونیکیشنز کے مطابق، لیبیا کے آرمی چیف کو لے جانے والے نجی طیارے میں اچانک برقی خرابی (الیکٹریکل فالٹ) پیدا ہو گئی تھی۔ یہ بات خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کی۔

بیان کے مطابق طیارے کے عملے نے برقی خرابی کی اطلاع دینے کے فوراً بعد ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی، مگر انقرہ کے قریب طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ تحقیقاتی اداروں نے طیارے کا وائس ریکارڈر اور بلیک باکس بھی برآمد کر لیا ہے۔

ڈسالٹ فالکن 50 طیارہ منگل کے روز 17:17 جی ایم ٹی پر انقرہ کے اسن بوغا ایئرپورٹ سے طرابلس کے لیے روانہ ہوا۔ 17:33 جی ایم ٹی پر عملے نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو برقی خرابی کے باعث ہنگامی صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے بعد طیارے کو واپس اسن بوغا ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا گیا اور ایمرجنسی اقدامات کیے گئے۔

تاہم 17:36 جی ایم ٹی پر طیارہ ریڈار سے غائب ہو گیا اور اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ بعد میں طیارے کا تباہ شدہ ملبہ انقرہ کے جنوب مغرب میں واقع کیسک کاواک گاؤں کے قریب ملا۔

اس المناک حادثے میں تین عملے کے ارکان سمیت مجموعی طور پر آٹھ افراد جاں بحق ہوئے، جس کی تصدیق لیبیا اور ترکی کے حکام نے کی۔

لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت (GNU) کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے اس واقعے کو ملک کے لیے “بڑا نقصان” قرار دیا۔

جنرل محمد علی احمد الحدّاد اور ان کی ٹیم ترکی میں دو طرفہ مذاکرات کے لیے موجود تھی، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates