Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

قدرت کی کیمیاء سائنس کو ایک بار پھر حیران کر رہی ہے۔

حالیہ لیبارٹری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھنگ (کینابس) میں پائے جانے والے بعض مرکبات، خاص طور پر سی بی ڈی اور ٹی ایچ سی، جارحانہ قسم کے اووریئن کینسر کے خلیات کی نشوونما کو سست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ یہ مرکبات کینسر سیلز کے سگنلز میں مداخلت کرتے ہیں، پھیلاؤ کو محدود کرتے ہیں، اور بعض صورتوں میںپروگرام شدہ خلیاتی موت (اپوپٹوسس) کو متحرک کرتے ہیں — جبکہ صحت مند خلیات نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔

یہ تحقیق اب بھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور زیادہ تر نتائج کنٹرول شدہ لیبارٹری ماحول تک محدود ہیں، نہ کہ انسانوں پر وسیع کلینیکل آزمائشوں پر۔ اس کے باوجود، یہ نتائج اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کینسر کے علاج میں مستقبل میں زیادہ ہلکے اور ہدفی (targeted) طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

روایتی کیموتھراپی کے برعکس، جو پورے جسم کو متاثر کر سکتی ہے، یہ مرکبات زیادہ منتخب انداز میں کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ماہرین واضح طور پر خبردار کرتے ہیں کہ کلینیکل ٹرائلز کے بغیر ان مرکبات کو علاج کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بعض اوقات جدید بیماریوں کے حل قدیم پودوں اور قدرتی نظاموں میں پوشیدہ ہوتے ہیں — مگر انہیں سائنس کی کڑی جانچ سے گزارنا ضروری ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates