امریکا کی معروف درسگاہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے محققین نے ایک جدید شمسی توانائی سے چلنے والا نظام تیار کیا ہے جو سمندری پانی کو محفوظ پینے کے قابل پانی میں تبدیل کرتا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر پانی کی قلت کے مسئلے کا ایک امید افزا حل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ جدید ٹیکنالوجی قابلِ تجدید شمسی توانائی استعمال کرتے ہوئے نمک اور دیگر مضر اجزا کو پانی سے علیحدہ کرتی ہے، اور اس کے لیے نہ تو پیچیدہ انفراسٹرکچر درکار ہے اور نہ ہی بجلی کے روایتی نظام پر انحصار کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام خاص طور پر ساحلی علاقوں اور دور دراز بستیوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جہاں صاف پانی تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کم لاگت میں صاف پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اثرات کو بھی کم کرنے میں مدد دے گی۔
یہ سائنسی کامیابی اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح سائنس اور صاف توانائی مل کر دنیا کے سنگین مسائل کا پائیدار حل پیش کر سکتی ہیں، اور یہ قدم عالمی سطح پر قابلِ رسائی اور پائیدار پانی کے حل کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔
