وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے بڑھتے ہوئے پانی کے مسائل کے پیشِ نظر دو نئے ڈیموں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ منصوبے شہری آبادی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پانی کی طلب، زیرِ زمین پانی کی کمی اور مستقبل کے ممکنہ بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور کیے گئے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں پانی کی قلت ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ آبادی میں اضافہ، بے ہنگم شہری توسیع اور بارشوں کے پانی کو محفوظ نہ کر پانے کے باعث دونوں شہروں کو خاص طور پر گرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نئے ڈیموں کی منظوری کو اسی تناظر میں ایک طویل المدتی حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
منصوبہ بندی کے مطابق یہ ڈیم نہ صرف پینے کے پانی کی فراہمی میں بہتری لائیں گے بلکہ بارشوں کے اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے، زیرِ زمین آبی ذخائر کو ری چارج کرنے اور ممکنہ سیلابی دباؤ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ان منصوبوں سے شہری انفراسٹرکچر پر پڑنے والا دباؤ بھی کسی حد تک کم ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیموں کی تعمیر محض ایک قدم ہے، اصل کامیابی ان کے بروقت اور شفاف نفاذ سے جڑی ہوئی ہے۔ ماضی میں ایسے کئی منصوبے تاخیر، لاگت میں اضافے اور انتظامی رکاوٹوں کا شکار رہے ہیں، جس کے باعث عوام کو بروقت فائدہ نہیں مل سکا۔
عوامی حلقوں میں اس فیصلے کو مجموعی طور پر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، تاہم یہ مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ پانی کے ضیاع کو روکنے، پرانی پائپ لائنز کی مرمت اور غیرقانونی کنکشنز کے خلاف مؤثر اقدامات بھی ساتھ ساتھ کیے جائیں، تاکہ ڈیموں سے حاصل ہونے والا فائدہ دیرپا ثابت ہو۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے لیے منظور ہونے والے یہ نئے ڈیم اس بات کی علامت ہیں کہ پانی جیسے بنیادی مسئلے پر اب تاخیر مزید ممکن نہیں۔ اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو یہ جڑواں شہروں کے لیے ایک محفوظ آبی مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
