کراچی: سماجی و سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے زورین نظامی نے کہا ہے کہ کسی کو اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کرنے کے بعد اس کی زندگی اجیرن بنانا سندھی اقدار کے سراسر خلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کم از کم یہ ان کی ذاتی اقدار کا حصہ نہیں۔
زورین نظامی نے بطورِ سندھی، تمام سندھیوں کی جانب سے سہیل آفریدی سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ تمام سندھی ایسے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی خود بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سب کس نے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھی ثقافت محبت، احترام اور مہمان نوازی کی علامت ہے، اور کسی فرد کے ساتھ ناانصافی یا تحقیر آمیز رویہ اختیار کرنا اس ثقافت کی حقیقی روح کی نمائندگی نہیں کرتا۔
سیاسی و سماجی مبصرین کے مطابق زورین نظامی کا یہ بیان نہ صرف واقعے پر اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ کسی ایک فرد یا گروہ کے عمل کو پوری قوم یا ثقافت سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔
