Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

کرکٹ کس کے ہاتھ یرغمال ہے؟

یہ حقیقت اب زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی کہ عالمی کرکٹ میں طاقت کا توازن بری طرح بگڑ چکا ہے۔ شکر ہے کہ اب انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے بڑے کرکٹ ممالک کو بھی اس بات کا اندازہ ہونا شروع ہو گیا ہے کہ بھارت کس طرح عالمی کرکٹ کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ وہ مسائل جن پر پاکستان برسوں سے آواز اٹھاتا رہا، آج وہی مسائل دوسرے ممالک کے لیے بھی دردِ سر بنتے جا رہے ہیں۔

ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ کے لیے انگلینڈ کے اسپنر عادل رشید اور ریحان احمد کو ویزوں کے اجرا میں تاخیر محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے نظام کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کھیل کے بجائے طاقت، اثر و رسوخ اور مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب کھلاڑیوں کی تیاری، ذہنی یکسوئی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اس طرح غیر یقینی صورتحال میں ڈالا جائے تو سوالات تو اٹھیں گے، اور اب یہی سوالات بین الاقوامی میڈیا میں بھی گونجنے لگے ہیں۔

پاکستان وہ ملک ہے جو اس رویے کا سب سے زیادہ سامنا کر چکا ہے۔ سیکیورٹی کے نام پر تنہائی، پھر دوہرے معیارات، اور اب انتظامی رکاوٹیں—یہ سب کچھ پاکستان کے لیے نیا نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان نے وقت کے ساتھ خاموش رہنے کے بجائے ڈٹ کر مؤقف اختیار کیا اور عالمی فورمز پر اپنی بات رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے دیگر ممالک بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں جہاں پاکستان پہلے ہی کھڑا تھا۔

عالمی کرکٹ اگر واقعی ایک منصفانہ اور پیشہ ور کھیل ہے تو پھر اس میں کسی ایک ملک کی اجارہ داری قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔ آئی سی سی جیسے ادارے اگر صرف تماشائی بنے رہیں گے تو یہ کھیل چند ہاتھوں میں قید ہو کر رہ جائے گا۔ کرکٹ کا مستقبل تبھی محفوظ ہو سکتا ہے جب تمام رکن ممالک کو برابری کی بنیاد پر عزت، سہولت اور مواقع دیے جائیں۔

اب وقت آ چکا ہے کہ انگلینڈ، آسٹریلیا اور دیگر کرکٹ کھیلنے والے ممالک محض معاشی مفادات کے بجائے کھیل کی روح کے لیے بھی آواز بلند کریں۔ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہی مسائل مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی اہمیت منوائی ہے، اب دوسروں کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کرکٹ صرف ایک ملک کی جاگیر نہیں بلکہ ایک عالمی کھیل ہے۔

سلیم خالق

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates