لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے صارفین کے لیے سولر گرین میٹرز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد سولر توانائی استعمال کرنے والے ہزاروں صارفین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق نئے اور زیرِ التوا سولر کنکشنز پر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق لیسکو کی جانب سے یہ اقدام میٹرنگ کے نظام میں بہتری، تکنیکی مسائل اور بجلی کے ریکارڈ میں شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرین میٹرز کے باعث بجلی کی ریڈنگ، نیٹ میٹرنگ اور لوڈ مینجمنٹ میں پیچیدگیاں سامنے آ رہی تھیں، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
پابندی کے بعد اب صارفین کو متبادل میٹرنگ سسٹم اپنانا ہوگا، جبکہ پہلے سے لگے گرین میٹرز کے مستقبل کے بارے میں بھی مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھاری سرمایہ کاری کے بعد سولر سسٹمز نصب کیے تھے اور اب اس فیصلے سے انہیں مالی نقصان کا خدشہ ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگرچہ میٹرنگ نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے، تاہم ایسے فیصلے مشاورت اور واضح پالیسی کے بغیر کیے جائیں تو اس سے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سولر انرجی ملک کے توانائی بحران کا ایک مؤثر حل ہے، جسے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ رکاوٹوں کی۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیسکو اس فیصلے پر نظرِثانی کرے اور صارفین کو واضح گائیڈ لائنز فراہم کرے تاکہ سولر توانائی استعمال کرنے والے افراد کسی ابہام یا نقصان کا شکار نہ ہوں۔
لیسکو کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کے باعث سولر انرجی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھ رہا تھا، اور اس پابندی کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
