پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت سے آنے اور جانے والی پروازوں کو متبادل فضائی راستے اختیار کرنا پڑیں گے۔ اس فیصلے کا اطلاق کمرشل اور مخصوص نوعیت کی پروازوں پر جاری پابندی کی صورت میں برقرار رکھا گیا ہے۔
فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو طویل راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے پرواز کے دورانیے اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کے بھارتی ہوابازی کے شعبے پر مالی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ قومی مفادات اور سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ فضائی حدود کی بندش کا دورانیہ صورتحال کے جائزے کے بعد مزید بڑھایا یا کم کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے ادوار میں فضائی حدود کی بندش جیسے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں، جو خطے کی ہوابازی اور سفری سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ اقدام ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتا، جبکہ علاقائی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
