اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معزز ممبران ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ گرفتار کے دوران تشدد کیا گیا۔
واجد گیلانی کے مطابق، واقعے کے دوران ایمان مزاری کے ساتھ ایک مرد اہلکار نے نیفے سے پکڑا اور گردن دبوچ کر گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات انسانی حقوق کے اصولوں اور قانونی آداب کے منافی ہیں۔
قانونی برادری کا ردعمل
اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتاری کے دوران اہلکاروں کی جانب سے کسی بھی قسم کے غیر قانونی اور جسمانی تشدد کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں۔ وکلاء برادری نے کہا ہے کہ شہریوں اور قانونی نمائندوں کے ساتھ ایسا رویہ قانون کی روح کے خلاف ہے۔
آئندہ کارروائی
بار کے صدر واجد گیلانی نے اعلان کیا کہ وہ متعلقہ حکام سے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں گے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی نمائندے یا شہری کے ساتھ ایسے غیر انسانی اقدامات نہ ہوں۔
اختتامیہ
ایمان مزاری اور ہادی علی کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے نے نہ صرف قانونی برادری بلکہ عوام میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب سب کی نظریں حکام کی جانب سے شفاف تحقیقات اور فوری کارروائی پر مرکوز ہیں۔
