پاکستان کے کئی موجودہ اور سابق کرکٹرز کو ایک ناکام کاروباری معاہدے میں سرمایہ کاری کے باعث مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک معروف کاروباری شخصیت، جو کرکٹ حلقوں میں جانی جاتی تھی، نے کرکٹرز کو ماہانہ بھاری منافع کا لالچ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق متعدد کھلاڑیوں نے نہ صرف اپنی ذاتی رقم بلکہ بعض نے رشتہ داروں کے فنڈز بھی اس کاروبار میں لگائے۔ ابتدائی چند ماہ تک کاروباری شخص کی جانب سے باقاعدہ منافع ادا کیا جاتا رہا، جس کے باعث کھلاڑیوں کا اعتماد بڑھا اور انہوں نے مزید سرمایہ کاری کر دی۔
بعد ازاں اچانک منافع کی ادائیگیاں بند ہو گئیں اور مذکورہ کاروباری شخص ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک روانہ ہو گیا، جس کے بعد اس سے رابطہ ممکن نہ رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری میں ہونے والا مجموعی نقصان ایک ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ تاہم اب تک کسی بھی متاثرہ کرکٹر نے باقاعدہ پولیس شکایت درج نہیں کروائی۔
اس معاملے پر کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین سے رابطہ کیا ہے تاکہ مسئلے کے حل کے لیے مدد حاصل کی جا سکے۔ پی سی بی حکام کے مطابق صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ کھلاڑیوں میں سابق کپتان اور قومی ٹیم کے نمایاں موجودہ ارکان بھی شامل ہیں، جن میں بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی کے نام سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دیگر موجودہ اور سابق کرکٹرز بھی اس سرمایہ کاری کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
کرکٹرز کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ کسی قسم کے فراڈ میں ملوث نہیں اور خود کو متاثرہ فریق قرار دیتے ہیں۔ کھلاڑی اس وقت قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہے ہیں اور جلد فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا باضابطہ قانونی کارروائی کی جائے یا نہیں۔
