پنجاب حکومت ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے جس کے تحت اسکولوں اور کالجوں کی گرمیوں کی تعطیلات میں کمی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد صوبے بھر میں یکساں تعلیمی کیلنڈر نافذ کرنا اور نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔
اس وقت زیرِ غور تجویز کے مطابق سالانہ 190 لازمی تدریسی دن مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جسے حالیہ برسوں کی نمایاں تعلیمی اصلاحات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس خصوصی کمیٹی کی سفارشات کے بعد سامنے آئی ہے جو لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کے احکامات پر تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے پنجاب بھر میں تعطیلات کے موجودہ نظام کا جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ ڈھائی ماہ کی گرمیوں کی چھٹیاں تعلیمی تسلسل کو متاثر کرتی ہیں، خصوصاً اعلیٰ جماعتوں کے طلبہ کے لیے جنہیں طویل نصاب مکمل کرنا ہوتا ہے۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) لاہور کے مطابق مجوزہ منصوبے میں گرمیوں کی تعطیلات میں 36 دن کی کمی کی سفارش کی گئی ہے، جس کے بعد چھٹیاں موجودہ دو ماہ اور 15 دن کے بجائے صرف چھ ہفتوں تک محدود ہو جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے طلبہ کی کارکردگی بہتر ہو گی، تعلیمی خلا میں کمی آئے گی اور کلاس روم میں تدریس کا معیار مضبوط ہو گا۔
نجی اسکولوں کی تنظیموں نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ متوازن اور مستقل تعلیمی کیلنڈر سے اداروں میں تعلیمی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور سال کے اختتام پر طلبہ اور اساتذہ پر غیر ضروری دباؤ کم ہو گا۔
