Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

سی ڈی اے نے اسلام آباد میں نئے کرکٹ سٹیڈیم کا عین مقام بتا دیا

سی ڈی اے نے اسلام آباد میں نئے کرکٹ سٹیڈیم کا عین مقام بتا دیا

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وضاحت کی ہے کہ اسلام آباد میں مجوزہ نئے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر سیکٹر ڈی-12 کے قریب کی جائے گی اور یہ مقام زون تھری میں واقع ہے، نہ کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی باضابطہ حدود کے اندر۔

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) نے منصوبے کے درست مقام اور لے آؤٹ سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ یہ درخواست سی ڈی اے کی جانب سے اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے بولیاں طلب کرنے کے بعد کی گئی تھی۔

آئی ڈبلیو ایم بی نے یہ جاننا چاہا تھا کہ آیا مجوزہ اسٹیڈیم کا مقام نیشنل پارک کی حدود کے اندر آتا ہے، اس سے متصل ہے، یا پھر اسلام آباد نیچر کنزرویشن اینڈ وائلڈ لائف مینجمنٹ ایکٹ 2024 کے تحت مقرر کردہ 100 میٹر کے محفوظ بفر زون میں شامل ہوتا ہے۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق منتخب کردہ جگہ زون تھری میں واقع ہے، جہاں زمین کے استعمال کے قوانین تفریحی منصوبوں کی اجازت دیتے ہیں، اور ان کے مطابق کرکٹ اسٹیڈیم اس زمرے میں آتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیڈیم سے منسلک معاون سہولیات بھی اسی فریم ورک کے تحت منصوبہ بندی کی جا سکتی ہیں، تاہم اگر مستقبل میں کسی بڑے تجارتی منصوبے کی تجویز دی گئی تو اس کے لیے وفاقی سطح پر منظوری درکار ہوگی۔

سی ڈی اے اجلاسوں میں زیرِ بحث آنے والی معلومات کے مطابق یہ اسٹیڈیم تقریباً 175 ایکڑ پر مشتمل ایک بڑے اولمپک ویلیج منصوبے کا حصہ ہوگا۔ مجوزہ اسٹیڈیم سے مارگلہ کی پہاڑیوں کا کھلا منظر نظر آئے گا اور اس میں تقریباً 32 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ اس کے علاوہ تقریباً 10 ہزار گاڑیوں کے لیے پارکنگ کی سہولت اسٹیڈیم سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر فراہم کی جائے گی۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کے ماڈل کو مدِنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل منصوبے کا پی سی-ون 12 ارب روپے میں منظور کیا گیا تھا، تاہم نظرثانی شدہ منصوبہ بندی کے بعد لاگت کم ہو کر تقریباً 8 ارب روپے تک آنے کی اطلاعات ہیں۔

فی الحال اسلام آباد اور راولپنڈی میں بین الاقوامی کرکٹ میچز کے لیے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم پر انحصار کیا جاتا ہے، جس کے باعث میچ کے دنوں میں دونوں شہروں کے درمیان ٹیموں کی آمد و رفت، شدید ٹریفک اور سخت سکیورٹی انتظامات جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

سی ڈی اے حکام کا مؤقف ہے کہ اب تک وائلڈ لائف بورڈ نے اسٹیڈیم پر کوئی اعتراض نہیں کیا، بلکہ تعمیر سے قبل قانونی تقاضوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates