پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کی خلاف ورزی کرنے والے بچوں کے خلاف جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
آرڈیننس کے مطابق، پہلی مرتبہ خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر 100 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اگر بچہ جرمانہ ادا کرنے سے قاصر ہو تو یہ رقم والدین یا سرپرستوں سے وصول کی جائے گی۔
قانون کے تحت، خلاف ورزی سے متعلق مستند معلومات فراہم کرنے والے وہسل بلوئرز کو ڈپٹی کمشنر کی منظوری سے 5 ہزار روپے تک انعام دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر معلومات پہلے سے معلوم ہوں یا غیر مؤثر سمجھی جائیں تو کوئی انعام نہیں دیا جائے گا۔
آرڈیننس کے تحت صوبے بھر میں پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے، تاہم مخصوص مقامات اور مقررہ دنوں میں ریگولیٹری فریم ورک کے تحت اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پتنگ سازوں، تاجروں، فروخت کنندگان اور پتنگ بازی ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنرز کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خلاف ورزی کی صورت میں رجسٹریشن منسوخ کریں اور قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف کارروائی کریں۔
