Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

وکلا اور عدلیہ کے تعلقات میں تبدیلی پر جسٹس ہاشم کاکڑ کے اہم ریمارکس

وکلا اور عدلیہ کے تعلقات میں تبدیلی پر جسٹس ہاشم کاکڑ کے اہم ریمارکس

سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس ہاشم کاکڑ نے عدالتی کارروائی کے دوران وکلا اور عدلیہ کے درمیان ماضی اور حال کے رویّوں میں واضح فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے ہیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ
“اب وکیل بھی وہ وکیل نہیں رہے، پہلے ججز ڈرا کرتے تھے۔ ڈر ہوا کرتا تھا کہ بار کا صدر پچاس وکلا کو لے کر عدالت آ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بار اور بینچ کے تعلقات ایک مختلف نوعیت کے تھے، جہاں وکلا کی اجتماعی طاقت اور بار ایسوسی ایشنز کا اثر و رسوخ عدالتی ماحول پر نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا تھا۔ اس وقت عدالتی نظم و ضبط، پیشی کے انداز اور فریقین کے رویّوں میں ایک خاص توازن موجود تھا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف وکلا کے کردار میں تبدیلی آئی ہے بلکہ عدالتی نظام اور اس کے اطوار بھی بدل چکے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ آج کے عدالتی ماحول میں وہ دباؤ یا خوف باقی نہیں رہا جو ماضی میں بعض اوقات ججز کو درپیش ہوتا تھا۔

ان ریمارکس کو قانونی حلقوں میں بار اور بینچ کے بدلتے ہوئے تعلقات، وکلا کے کردار، اور عدالتی نظم و ضبط پر ایک سنجیدہ تبصرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے جو پاکستان کے عدالتی نظام میں ادارہ جاتی رویّوں اور پیشہ ورانہ اقدار کے ارتقا پر جاری ہے۔

عدالتی مبصرین کا کہنا ہے کہ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس نہ صرف ماضی کی یاد دہانی ہیں بلکہ موجودہ قانونی برادری کے لیے بھی ایک سوچنے کا مقام فراہم کرتے ہیں کہ بار اور بینچ کے تعلقات کو کس سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates