Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

جے ایف-17 لڑاکا طیارے کی بڑھتی عالمی مانگ، پاکستان کو پیداواری دباؤ کا سامنا

جے ایف-17 لڑاکا طیارے کی بڑھتی عالمی مانگ، پاکستان کو پیداواری دباؤ کا سامنا

پاکستان کے جے ایف-17 لڑاکا طیارے کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث ملک کو پیداواری دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیداواری صلاحیت میں توسیع نہ کی گئی تو پاکستان کو ایک طرف برآمدی آرڈرز پورے کرنے اور دوسری جانب اپنی فضائیہ کی ضروریات برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران کم از کم پانچ ممالک نے جے ایف-17 میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ تاہم پاکستان اس وقت سالانہ 20 سے کم طیارے تیار کر رہا ہے، جن میں سے زیادہ تر پاکستان ایئر فورس کے لیے مختص ہوتے ہیں، جس کے باعث برآمدات کے لیے محدود گنجائش رہ جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق عراق، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جے ایف-17 حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور لیبیا کے ساتھ بھی ممکنہ بات چیت کی اطلاعات ہیں۔ طیارے کی مانگ میں اضافے کی ایک بڑی وجہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران اس کی آپریشنل کارکردگی رہی، جس سے عالمی دفاعی حلقوں میں اس کی پہچان مزید مضبوط ہوئی۔

جے ایف-17 طیارہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) کامرہ میں چین کی کمپنی اے وی آئی سی چینگڈو کے اشتراک سے تیار کیا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ طیارہ کم لاگت اور مؤثر جنگی صلاحیت کے امتزاج کی وجہ سے ان ممالک کے لیے پرکشش ہے جن کے دفاعی بجٹ محدود ہیں۔

اگر موجودہ مذاکرات عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو پاکستان کو اپنی پیداواری لائنز میں توسیع کرنا پڑ سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انڈونیشیا 40 طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ معاہدہ تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے، جس میں 50 طیارے شامل ہو سکتے ہیں۔

اب تک صرف تین ممالک نے باضابطہ طور پر جے ایف-17 کو اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیا ہے۔ میانمار نے کم از کم 16 بلاک-II طیارے آرڈر کیے، نائیجیریا نے 2021 میں تین طیارے حاصل کیے، جبکہ آذربائیجان نے 2024 میں تقریباً 1.6 ارب ڈالر مالیت کے 40 طیاروں کا بڑا آرڈر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے بڑی سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور ہنر مند افرادی قوت درکار ہوگی۔ بصورت دیگر پاکستان اور چین کو برآمدی وعدے پورے کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، جو ملکی فضائی دفاع پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔

تقریباً 40 سے 50 ملین ڈالر فی طیارہ لاگت کے ساتھ جے ایف-17، مغربی طیاروں جیسے رافیل اور ایف-16 کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا ہے، جس کے باعث عالمی دفاعی منڈی میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates