Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اگر بہنوں کی مداخلت نہ ہوتی تو نومبر 2024 تک عمران خان رہا ہو چکے ہوتے، شیر افضل مروت

اگر بہنوں کی مداخلت نہ ہوتی تو نومبر 2024 تک عمران خان رہا ہو چکے ہوتے، شیر افضل مروت

اسلام آباد (6 فروری 2026): رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہنوں کی سیاست میں مداخلت نہ ہوتی تو وہ نومبر 2024 تک عمران خان کی رہائی ممکن بنا چکے ہوتے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں اور بشریٰ بی بی کی وجہ سے پارٹی کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو بھی بشریٰ بی بی کے کہنے پر تبدیل کروایا گیا۔

شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں وفاداری وائی فائی کی طرح ہے، جہاں سگنل مضبوط ہو وہاں کنیکٹ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جو عمران خان کی بہنوں کی مداخلت سے محفوظ رہا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خانم سے ان کا ذاتی اختلاف نہیں، تاہم پارٹی معاملات میں مداخلت نقصان دہ ثابت ہوئی۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ عمران خان کو ہمیشہ اپنا الگ اور واضح مؤقف دیتے رہے اور جو بات انہیں درست لگتی تھی وہ بلا جھجھک بانی پی ٹی آئی تک پہنچاتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے دوران پارٹی کے جاسوس ان کے اردگرد موجود ہوتے تھے۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں کو ایسی باتیں کرنی چاہئیں جن سے پارٹی کو فائدہ ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اگر بہنوں کی سیاست نہ ہوتی تو وہ نومبر 2024 تک عمران خان کو رہا کروا چکے ہوتے، جبکہ علیمہ خانم کا سب سے بڑا نشانہ بیرسٹر گوہر ہیں۔

8 فروری کو متوقع احتجاج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ احتجاج میں صرف دو دن رہ گئے ہیں اور اب مشعل بردار ریلی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کا یہ فیصلہ بہتر ہے کیونکہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام سے کوئی واضح پیغام نہیں جاتا۔ تاہم انہوں نے احتجاج کی کامیابی پر شکوک کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں مشعل بردار ریلی بڑی ہو سکتی ہے جبکہ دیگر شہروں میں بھی محدود سرگرمیاں متوقع ہیں، تاہم حکومت کو 8 فروری کے احتجاج سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اس دن بسنت کے موقع پر پتنگ کی ڈور سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا عنوان یا اسے مختصر بریکنگ نیوز ورژن میں بھی تبدیل کر سکتا ہوں۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates