Share This Article
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے نجی شعبے پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں اپنا کردار مزید مؤثر بنائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی لحاظ سے مضبوط معیشت کی جانب لے جانے کے لیے سرمایہ کاری کو متحرک کرنا اور نوجوان نسل کی قیادت میں جدید حل کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
یہ بات انہوں نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کے زیر اہتمام منعقدہ چوتھی پاکستان کلائمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس کے موقع پر OICCI کلائمٹ ایکسیلنس ایوارڈز کے دوسرے ایڈیشن کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف کیٹیگریز میں 80 سے زائد اندراجات موصول ہوئے، جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مضبوط موسمیاتی قیادت کا عکاس ہیں۔
اس موقع پر نیسلے پاکستان کو مسلسل دوسرے سال OICCI کا اعلیٰ ترین “کلائمٹ چیمپئن ایوارڈ” دیا گیا۔ کمپنی کو کلائمٹ اینڈ نیٹ زیرو، ری جنریٹو ایگریکلچر اور سرکلر اکانومی کے شعبوں میں اقدامات پر سراہا گیا۔
نیسلے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیسن اوانسینا نے کہا کہ پاکستان کلائمٹ کانفرنس نے قابلِ عمل سفارشات کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو ملک کو موسمیاتی طور پر مستحکم معیشت کی طرف منتقل کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ نیسلے نے ڈیووس میں پاکستان کے لیے مزید 60 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جو پائیداری، گرین منصوبوں، زرعی خدمات میں بہتری، آٹومیشن اور ڈیجیٹلائزیشن پر خرچ کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2023 سے 2025 کے دوران 40 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد مجموعی منصوبہ بند سرمایہ کاری چھ سال میں 100 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو پاکستان کے ساتھ کمپنی کے طویل المدتی عزم کا اظہار ہے۔
نیسلے پاکستان کے ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز اینڈ سسٹین ایبلٹی شیخ وقار احمد نے کہا کہ کمپنی پائیداری کو اپنے کاروبار کا بنیادی جزو سمجھتی ہے اور ایک بہتر اور صاف ماحول کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بھی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی اقدامات کی فوری ضرورت اور نجی شعبے کے کلیدی کردار پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 1.3 ارب ڈالر کی موسمیاتی فنانسنگ تک رسائی حاصل ہے۔
نیسلے کے عالمی نیٹ زیرو اہداف کے تحت کمپنی 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد کمی اور 2050 تک نیٹ زیرو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان میں کمپنی 2018 کی بنیاد کے مقابلے میں اخراج میں 50 فیصد سے زائد کمی حاصل کر چکی ہے، جس میں 9.6 میگاواٹ سولر پاور اور کبیر والا میں 20 ٹن فی گھنٹہ بایوماس بوائلر جیسے منصوبے شامل ہیں۔
کمپنی نے ورجن پلاسٹک کے استعمال میں 33 فیصد کمی کی ہے اور قابلِ ری سائیکل پیکیجنگ متعارف کرائی ہے۔ کلین گلگت بلتستان پروجیکٹ کے تحت 11 ہزار ٹن پیکیجنگ ویسٹ کی جمع آوری اور ری سائیکلنگ کی جا رہی ہے، جو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) 13 اور 15 سے ہم آہنگ ہے۔
