اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ رمضان المبارک 1447 ہجری کے پہلے روز تمام بینکوں، ڈویلپمنٹ فنانس انسٹیٹیوشنز (DFIs) اور مائیکروفنانس بینکوں (MFBs) میں عوامی لین دین بند رہے گا۔ یہ خصوصی بینک ہالیڈے زکوٰۃ کی کٹوتی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے رکھا گیا ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تعطیل صرف صارفین کے لین دین کے لیے ہوگی، جبکہ بینک، ڈی ایف آئیز اور مائیکروفنانس بینکوں کا عملہ معمول کے مطابق ڈیوٹی پر حاضر ہوگا اور اندرونی امور سرانجام دے گا۔ یعنی ملازمین کے لیے یہ عام ورکنگ ڈے ہوگا، تاہم عوامی خدمات دستیاب نہیں ہوں گی۔
یہ سالانہ طریقہ کار ایسے کھاتوں سے زکوٰۃ کی خودکار کٹوتی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جو بچت، منافع و نقصان میں شراکت (PLS) یا اسی نوعیت کے ڈپازٹ اکاؤنٹس ہوں اور حکومتی طور پر مقرر کردہ نصاب کی حد کو پورا کرتے ہوں۔
رمضان 1447 ہجری (2026) کے لیے وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے زکوٰۃ کا نصاب 5 لاکھ 3 ہزار 529 روپے مقرر کیا ہے، جو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تبدیلی کے باعث گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ایسے اکاؤنٹس جن میں رمضان کے پہلے دن اس حد کے برابر یا زیادہ رقم موجود ہوگی، ان سے زکوٰۃ کٹوتی کی جائے گی۔
بینک صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بینک ہالیڈے سے پہلے اپنے مالی معاملات کی منصوبہ بندی کر لیں، کیونکہ عوامی بینکاری خدمات اگلے کاروباری دن معمول کے مطابق بحال ہو جائیں گی۔
پاکستان میں زکوٰۃ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
پاکستان کے زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے تحت مالیاتی ادارے قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ ہر سال رمضان کے آغاز پر زکوٰۃ کٹوتی کریں۔ جمع ہونے والی رقم بعد ازاں صوبائی اور ضلعی زکوٰۃ کمیٹیوں کے ذریعے مستحق افراد، بیواؤں، یتیموں، کم آمدنی والے خاندانوں اور خصوصی افراد میں تقسیم کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق یہ سالانہ نظام رمضان کے مقدس مہینے میں ضرورت مند طبقے کو بروقت مالی مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
استثنیٰ اور شرعی رہنما اصول
وہ شہری جو شرعی طور پر زکوٰۃ سے استثنیٰ رکھتے ہیں اور جنہوں نے CZ-50 حلف نامہ جمع کروایا ہے، انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کٹوتی کی تاریخ سے پہلے اپنے بینک سے اپنی حیثیت کی تصدیق کر لیں۔
اکاؤنٹ ہولڈرز کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ رمضان سے پہلے اپنے اکاؤنٹ بیلنس کا جائزہ لے لیں تاکہ غیر متوقع کٹوتی سے بچا جا سکے۔
