پاکستان کے ایوانِ زیریں (قومی اسمبلی) نے ڈیجیٹل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت ملک میں ورچوئل کرنسی مارکیٹ کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ادارہ قائم کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی نے “ورچوئل اثاثہ جات بل 2026” منظور کیا، جبکہ سینیٹ نے یہ قانون 27 فروری کو منظور کیا تھا۔ اب یہ بل دستخط کے لیے صدر آصف علی زرداری کو بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن جائے گا۔
اس قانون کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی، جو ملک میں کام کرنے والے ورچوئل اثاثوں اور سروس فراہم کنندگان کو لائسنس دینے، ریگولیٹ کرنے اور نگرانی کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ اس اقدام سے ایک ایسے شعبے کو باقاعدہ قانونی ڈھانچہ فراہم کیا گیا ہے جو اب تک جامع قانون سازی کے بغیر کام کر رہا تھا، جبکہ عام صارفین میں ڈیجیٹل اثاثوں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
قانون کے مطابق اتھارٹی کی سربراہی وفاقی حکومت کا مقرر کردہ چیئرمین کرے گا، جبکہ اس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ و کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ اتھارٹی کے سربراہ اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرمین سمیت اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔
ڈیجیٹل فنانس اور ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے دو آزاد ڈائریکٹرز بھی تعینات کیے جائیں گے۔
قانون کے اغراض و مقاصد کے مطابق اتھارٹی کو منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور ورچوئل اثاثوں سے متعلق دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار ہوگا، اور وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے جدت کو فروغ دینے، مالی شمولیت بڑھانے اور شرعی اصولوں کے مطابق ڈیجیٹل اثاثہ خدمات کی ترقی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
حکومت کے مطابق یہ فریم ورک محفوظ تجارت، شفافیت میں اضافہ اور ایک ایسے شعبے کی مؤثر نگرانی کے لیے بنایا گیا ہے جسے پالیسی ساز بیک وقت مالی خطرہ اور معاشی موقع دونوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔
