Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

پنجاب نے پاکستان کی پہلی مکمل زیرِ زمین بلیو لائن میٹرو کا آغاز کر دیا۔

پنجاب نے پاکستان کی پہلی مکمل زیرِ زمین بلیو لائن میٹرو کا آغاز کر دیا۔

لاہور کے شہریوں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے محکمۂ ٹرانسپورٹ متحرک ہو گیا ہے اور پاکستان کی پہلی مکمل زیرِ زمین بلو لائن میٹرو ٹرین سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق لاہور میں بلو لائن منصوبہ آئندہ مالی سال میں شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ فزیبلٹی اور ڈیزائن کے کام میں تیزی لائی گئی ہے جبکہ محکمۂ ٹرانسپورٹ پنجاب اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پہلی مکمل زیرِ زمین میٹرو سروس کی فزیبلٹی رپورٹ تیاری کے مرحلے میں ہے۔

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ فزیبلٹی اور ڈیزائن کا کام جلد مکمل کیا جائے۔ رپورٹ حتمی ہونے کے بعد منصوبے کی لاگت، مالی ماڈل اور تعمیراتی مدت واضح ہو جائے گی۔

ذرائع کے مطابق 27 کلومیٹر طویل بلو لائن منصوبے کو تین سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کا مکمل زیرِ زمین ٹریک ویلیجیا ٹاؤن سے بابو صابو چوک تک تجویز کیا گیا ہے۔

روٹ میں جوہر ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، کلمہ چوک، گلبرگ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ، وحدت روڈ اور علامہ اقبال ٹاؤن شامل ہوں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ روزانہ 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔

منصوبے کی متوقع لاگت 600 ارب روپے سے زائد ہو سکتی ہے جبکہ سرنگ کھودنے والی جدید مشینری روزانہ 6 میٹر تک کھدائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مالی معاونت کے لیے چین، جاپان اور فرانس کی مالیاتی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس سے قبل 2016 میں جاپانی ادارے جائیکا اور ترک کنسلٹنٹس نے ابتدائی تحقیق مکمل کی تھی، جبکہ جون 2024 میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے نئی تحقیق بھی کی گئی۔

ذرائع کے مطابق پہلی تحقیق میں 12 کلومیٹر حصہ زیرِ زمین تجویز کیا گیا تھا، تاہم اب پورا روٹ مکمل طور پر زیرِ زمین بنانے کا منصوبہ ہے۔ بلو لائن کے لیے ابتدائی فنڈنگ اور پی سی-ون کی تیاری آئندہ بجٹ میں متوقع ہے، جبکہ اسے مالی سال 2026–27 کے بجٹ میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔

بھاری مشینری روزانہ 6 میٹر تک سرنگ کھودنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چین، جاپان اور فرانس کی مالیاتی کمپنیوں نے اس منصوبے کی فنڈنگ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

2016 میں پنجاب محکمۂ ٹرانسپورٹ نے جاپانی ادارے جائیکا اور ترک کمپنی عثمانلی کے ساتھ مل کر ایک مطالعہ مکمل کیا تھا۔

پنجاب حکومت نے جون 2024 میں ایک اور ٹرانسپورٹ اسٹڈی کروائی جس کے مطابق بلو لائن روٹ قابلِ عمل ہے۔ پہلے مطالعے میں 12 کلومیٹر حصہ زیرِ زمین تھا، تاہم اب پورے روٹ کو مکمل طور پر زیرِ زمین بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates