ایران نے مبینہ طور پر اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت ایف-14 لڑاکا طیاروں کے جعلی ماڈلز استعمال کیے ہیں تاکہ ممکنہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کو دھوکہ دیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد دشمن کی نگرانی اور انٹیلی جنس نظام کو گمراہ کرنا اور حقیقی فوجی اثاثوں کو محفوظ بنانا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگی حالات میں صرف طاقتور ہتھیار ہی نہیں بلکہ اسٹریٹجک چالیں اور دھوکہ دہی کی تکنیکیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ جعلی ماڈلز اصلی جنگی طیاروں کی طرح دکھائی دیتے ہیں تاکہ فضائی نگرانی کے دوران سیٹلائٹ یا ڈرون تصاویر میں انہیں حقیقی طیاروں کے طور پر سمجھا جا سکے۔ اس طرح دشمن کو یہ تاثر دیا جا سکتا ہے کہ مخصوص ائیر بیسز یا مقامات پر زیادہ تعداد میں طیارے موجود ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ محض نمائشی ڈھانچے ہوں۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد اصل اثاثوں کو نشانہ بننے سے بچانا اور فضائی حملوں کے خطرے کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے ماحول میں مختلف ممالک اپنی دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ متبادل حکمتِ عملیوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ جعلی ماڈلز کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے، کیونکہ ماضی میں بھی کئی ممالک نے جنگی صورتحال میں ڈمی ٹینکس، جعلی ریڈار سسٹمز اور دیگر نقلی تنصیبات کا سہارا لیا ہے۔ اس طریقہ کار کو “ڈیسیپشن ٹیکنالوجی” یا دھوکہ دہی پر مبنی دفاعی حکمتِ عملی کہا جاتا ہے، جس کا مقصد دشمن کو غلط معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سیٹلائٹ نگرانی اور ڈرون ٹیکنالوجی کے باعث کسی بھی فوجی سرگرمی کو چھپانا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میں جعلی ماڈلز دشمن کے تجزیاتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور انہیں غلط اندازے لگانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اگر دشمن کسی مقام کو اہم ہدف سمجھ کر حملہ کرے اور وہاں صرف جعلی سازوسامان موجود ہو، تو اس سے نہ صرف حملے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اصل دفاعی اثاثے بھی محفوظ رہتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد صرف دفاعی حکمتِ عملی کو بہتر بنانا ہوتا ہے اور اسے براہِ راست جارحانہ کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ہر ملک اپنی قومی سلامتی کے پیشِ نظر مختلف طریقے اختیار کرتا ہے تاکہ اپنے فوجی ڈھانچے کو مضبوط اور محفوظ بنایا جا سکے۔
ابھی تک اس دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم بین الاقوامی میڈیا میں اس حوالے سے رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدام درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی تناؤ کے دوران دفاعی حکمتِ عملیوں میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور ممالک روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ تخلیقی اور تکنیکی حل بھی اپناتے جا رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، مبینہ طور پر ایف-14 کے جعلی ماڈلز کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دفاعی نظام صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں رہے بلکہ معلوماتی برتری، انٹیلی جنس کنٹرول اور دھوکہ دہی جیسی حکمتِ عملی بھی اہم حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ ایسی حکمتِ عملیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔
